المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ وَفَضْلِهَا باب: مکہ میں داخل ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
( 49 ) وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذَا يَأْتِي فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ الْقِتَالِ .
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَ عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُرْفَعُ الْأَيْدِي فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ : فِي بَدْءِ الصَّلَاةِ ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْبَيْتَ ، وَعَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَعَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، وَبِجَمْعٍ ، وَعِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ ، وَعَلَى الْمَيِّتِ .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس موضوع سے متعلق حدیث ﴿سورة القتال﴾ کی تفسیر میں آئے گی۔ ابن ابی عمر نے بیان کیا کہ ہمیں ہشام (جو کہ ابن سلیمان ہیں) نے ابن جریج کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے مقسم سے اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سات مقامات پر ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں: نماز کے آغاز میں، جب تم بیت اللہ کو دیکھو، صفا اور مروہ کی پہاڑیوں پر، عرفہ کی شام، مزدلفہ (جمع) میں، دونوں جمرات کے پاس اور میت پر (یعنی نمازِ جنازہ میں)۔“
ائمہ حدیث کے نزدیک ان مقامات پر ہاتھ اٹھانا دعا کی قبولیت اور شعائر اللہ کی تعظیم کے لیے مسنون ہے، اور جمرتین سے مراد جمرہ اولیٰ اور جمرہ وسطیٰ ہیں جہاں رمی کے بعد قبلہ رخ ہو کر دعا مانگی جاتی ہے۔