المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ وَفَضْلِهَا باب: مکہ میں داخل ہونے اور اس کی فضیلت کا بیان۔
( 47 ) حديث عمر رضي الله عنه تقدم في باب التستر في الغسل من الطهارة .وضاحت: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کتاب الطہارہ میں غسل کے وقت پردہ کرنے کے باب میں پہلے گزر چکی ہے۔
( 48 ) سَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى حَدِيثُ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي السَّعْيِ ، وَفِيهِ : حَبَّذَا مَكَّةُ .
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو يُونُسَ هُوَ الْقَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ ، يَقُولُ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَمْشِي ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ : وَاللهِ مَا أَعْلَمُ بَيْتًا وَضَعَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْكَ وَلَا بَلْدَةً أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْكِ ، وَمَا خَرَجْتُ عَنْكَ رَغْبَةً ، وَلَكِنْ أَخْرَجَنِي الَّذِينَ كَفَرُوا . ثُمَّ نَادَى : يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، لَا يَحِلُّ لِعَبْدٍ أَنْ يَمْنَعَ عَبْدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ .ان شاء اللہ تعالیٰ عنقریب سعی کے بیان میں سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث آئے گی جس میں مکہ کی تعریف میں ”مکہ کیا ہی خوب جگہ ہے“ کے الفاظ موجود ہیں۔ عبدالرحمن بن سابط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے لیے پیدل روانہ ہوئے، تو آپ ﷺ نے بیت اللہ کی طرف رخِ انور کیا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر کوئی ایسا گھر رکھا ہو جو مجھے تجھ سے زیادہ محبوب ہو، اور نہ ہی کوئی ایسا شہر ہے جو مجھے تجھ سے زیادہ عزیز ہو؛ میں اپنی مرضی و رغبت سے تجھے چھوڑ کر نہیں جا رہا، بلکہ مجھے ان لوگوں نے نکالا ہے جنہوں نے کفر کیا“۔ پھر آپ ﷺ نے آواز دے کر فرمایا: ”اے بنو عبدِ مناف! کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی بندے کو اس گھر کا طواف کرنے سے روکے، چاہے وہ دن یا رات کی کسی بھی گھڑی میں طواف کرنا چاہے“۔
امام مسدد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمیں یحییٰ بن سعید نے حسن بن یزید ابو یونس سے روایت بیان کی ہے اور وہ قوی راوی ہیں۔