❮
❯
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ فِي أَنْفِهِ ، فَخَرَجَتْ مُتَلَطِّخَةً دَمًا أَوْ عَلَيْهَا دَمٌ ، ثُمَّ صَلَّى " .
ترجمہ

میمون بن مہران ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ”انہوں نے اپنی انگلی اپنی ناک میں ڈالی، پس وہ خون سے لتھڑی ہوئی نکلی یا اس پر خون کا نشان لگا ہوا تھا، پھر انہوں نے (اسی حالت میں) نماز ادا کی۔“
وضاحت: اس اثر کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے، تاہم یہ اس موقف کی تائید کرتا ہے کہ جسم سے تھوڑا خون نکلنا وضو کو باطل نہیں کرتا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 120
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 120، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 556، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1481»