المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ باب: وضو کو باطل کرنے والے امور یعنی نواقضِ وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 120
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ فِي أَنْفِهِ ، فَخَرَجَتْ مُتَلَطِّخَةً دَمًا أَوْ عَلَيْهَا دَمٌ ، ثُمَّ صَلَّى " .ترجمہ
میمون بن مہران ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ”انہوں نے اپنی انگلی اپنی ناک میں ڈالی، پس وہ خون سے لتھڑی ہوئی نکلی یا اس پر خون کا نشان لگا ہوا تھا، پھر انہوں نے (اسی حالت میں) نماز ادا کی۔“
وضاحت: اس اثر کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے، تاہم یہ اس موقف کی تائید کرتا ہے کہ جسم سے تھوڑا خون نکلنا وضو کو باطل نہیں کرتا۔