المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ باب: وضو کو باطل کرنے والے امور یعنی نواقضِ وضو کا بیان۔
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ ، فَخَرَجَ مِنْ إِنْسَانٍ شَيْءٌ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " عَزَمْتُ عَلَى صَاحِبِ هَذِهِ الرِّيحِ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَيُعِيدَ صَلَاتَهُ " .
قَالَ جَرِيرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَوَتَعْزِمُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَوَضَّأَ ، وَأَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : " نِعْمَ مَا قَلْتَ ، جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا " ، فَأَمَرَهُمْ بِذَلِكَ .سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو (دورانِ نماز) کسی شخص سے ہوا خارج ہوئی، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (نماز مکمل کرنے کے بعد) ارشاد فرمایا: ”میں اس ریح خارج کرنے والے شخص کو تاکیدی حکم دیتا ہوں کہ وہ (دوبارہ) وضو کرے اور اپنی نماز لوٹائے۔“
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے (اس شخص کی پردہ پوشی کی خاطر) عرض کی: (اے امیر المؤمنین!) کیا آپ ان تمام لوگوں کو یہ تاکیدی حکم نہیں دیں گے جنہوں نے اس کی آواز سنی ہے کہ وہ وضو کریں اور اپنی نماز لوٹائیں؟ جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے بہت ہی عمدہ بات کہی ہے، «جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا» ”اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے“۔“ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے ان سب کو اسی بات (یعنی وضو کرنے اور نماز کا اعادہ کرنے) کا حکم دے دیا۔