المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ باب: حالتِ احرام میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَتْنِي أُخْتِي ، أَنَّهَا رَأَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَشِيَّةَ التَّرْوِيَةِ وَعَلَيْهَا دِرْعٌ مُوَرَّدٌ وَخِمَارٌ أَسْوَدُ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ .امام مسدد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یحییٰ نے اسماعیل بن ابی خالد کے واسطے سے خبر دی، وہ اپنی ہمشیرہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو یومِ ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کی شام اس حال میں دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہا نے گلابی یا کسم کے رنگ میں رنگا ہوا ایک پیراہن اور سیاہ رنگ کی اوڑھنی زیبِ تن فرما رکھی تھی اور آپ رضی اللہ عنہا اس وقت حالتِ احرام میں تھیں
ائمہ و شارحینِ حدیث اس اثر سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ خواتین کے لیے حالتِ احرام میں رنگین کپڑے پہننا جائز ہے بشرطیکہ وہ معطر نہ ہوں اور ان کا مقصد نمائش یا مردوں کو متوجہ کرنا نہ ہو۔