المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ باب: حالتِ احرام میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 1194
قَالَ : وَحَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أُخْتِهِ ، وَأُمِّهِ ، أَنَّهُمَا دَخَلَتَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا دِرْعٌ مُوَرَّدٌ ، وَخِمَارٌ أَسْوَدُ ، فَقِيلَ لَهَا : أَتُغَطِّي الْمُحْرِمَةُ وَجْهَهَا ؟ فَرَفَعَتْ خِمَارَهَا هَكَذَا مِنْ قِبَلِ صَدْرِهَا إِلَى رَأْسِهَا ، وَقَالَتْ : لَا بَأْسَ بِهَذَا .ترجمہ
اسماعیل بن ابی خالد کی والدہ اور ان کی ہمشیرہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اس وقت آپ رضی اللہ عنہا نے گلابی مائل لباس اور سیاہ رنگ کی اوڑھنی زیب تن فرما رکھی تھی، تو ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا حالتِ احرام میں عورت اپنا چہرہ ڈھانپ سکتی ہے؟ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی اوڑھنی کو سینے کی جانب سے اوپر اٹھا کر اپنے سر پر اس طرح ڈال لیا (کہ اس سے چہرہ چھپ جائے) اور فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“