❮
❯
حدیث نمبر: 1194
قَالَ : وَحَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أُخْتِهِ ، وَأُمِّهِ ، أَنَّهُمَا دَخَلَتَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا دِرْعٌ مُوَرَّدٌ ، وَخِمَارٌ أَسْوَدُ ، فَقِيلَ لَهَا : أَتُغَطِّي الْمُحْرِمَةُ وَجْهَهَا ؟ فَرَفَعَتْ خِمَارَهَا هَكَذَا مِنْ قِبَلِ صَدْرِهَا إِلَى رَأْسِهَا ، وَقَالَتْ : لَا بَأْسَ بِهَذَا .
ترجمہ

اسماعیل بن ابی خالد کی والدہ اور ان کی ہمشیرہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اس وقت آپ رضی اللہ عنہا نے گلابی مائل لباس اور سیاہ رنگ کی اوڑھنی زیب تن فرما رکھی تھی، تو ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا حالتِ احرام میں عورت اپنا چہرہ ڈھانپ سکتی ہے؟ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی اوڑھنی کو سینے کی جانب سے اوپر اٹھا کر اپنے سر پر اس طرح ڈال لیا (کہ اس سے چہرہ چھپ جائے) اور فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1194
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1193، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 25242»