المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ باب: وضو کو باطل کرنے والے امور یعنی نواقضِ وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 118
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : " يَتَوَضَّأُ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ ، وَلَا يَتَوَضَّأُ مِنَ الْكَلِمَةِ الْعَوْرَاءِ يَقُولُهَا . ؟ "ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے (اظہارِ تعجب اور تنبیہ کے طور پر) فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کھانا کھانے کے بعد (ظاہری صفائی یا وضو کے اہتمام کی صورت میں) تو وضو کر لیتا ہے، لیکن اس نازیبا، بیہودہ اور فحش بات سے وضو (یعنی توبہ و طہارت) نہیں کرتا جو وہ اپنی زبان سے نکالتا ہے؟“
یہ روایت امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے، جس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ کلام زبان کی لغزشوں سے پاکیزگی اختیار کرنے کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔