المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ باب: حالتِ احرام میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 1188
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبْصَرَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ثَوْبَيْنِ مَصْبُوغَيْنِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا أَخَالُ أَحَدًا يُعَلِّمُنَا السُّنَّةَ .ترجمہ
امام احمد بن منیع نے اپنی سند کے ساتھ ابو جعفر سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے جسم پر حالتِ احرام میں دو رنگے ہوئے کپڑے ملاحظہ فرمائے تو (بطورِ استفسار) دریافت کیا: ”یہ کیا ہے؟“ اس پر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے (دفاع کرتے ہوئے) جواباً ارشاد فرمایا: ”میرا نہیں خیال کہ کوئی ہمیں سنت سکھائے گا (یعنی ہم سنتِ نبوی ﷺ کے عالم اور اس پر عمل پیرا ہیں)۔“