المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ باب: حالتِ احرام میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 1189
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَغْسِلُ ثِيَابِي وَأَنَا مُحْرِمَةٌ ؟ فَقَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَا يَصْنَعُ بِدَرَنِكِ شَيْئًا .ترجمہ
امام مسدد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یحییٰ نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے اور انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک خاتون نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ”کیا میں احرام کی حالت میں اپنے کپڑے دھو سکتی ہوں؟“ تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کو تمہارے میل کچیل سے کوئی سروکار نہیں (یعنی اللہ تمہیں میلا کچیلا دیکھنا پسند نہیں فرماتا، اس لیے صفائی کی غرض سے کپڑے دھونے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔“