المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ باب: حالتِ احرام میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى طَلْحَةَ ثَوْبَيْنِ مَصْبُوغَيْنِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، إِنَّمَا هُوَ مِشْقٌ قَالَ : إِنَّكُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ أَئِمَّةٌ ، يَقْتَدِي بِكُمُ النَّاسُ ، وَلَعَلَّ الْجَاهِلَ أَنْ لَوْ رَآكَ أَنْ يَقُولَ : لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَى طَلْحَةَ ثَوْبَيْنِ مَصْبُوغَيْنِ ، فَلَبِسَ الثِّيَابَ الْمَصْبُوغَةَ فِي الْإِحْرَامِ ، فَلَا أَعْرِفَنَّ مَا يَلْبَسُ أَحَدٌ مِنْكُمْ ثَوْبًا مَصْبُوغًا فِي الْإِحْرَامِ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ . وَهُوَ أَصْلٌ فِي سَدِّ الذَّرَائِعِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو حالتِ احرام میں دو رنگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ تو محض گیرو (سرخ مٹی) کا رنگ ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے گروہِ صحابہ! تم لوگ پیشوا ہو، لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں؛ ممکن ہے کہ کوئی ناواقف شخص تمہیں دیکھ کر یہ کہہ دے کہ میں نے طلحہ کو دو رنگے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا ہے، لہٰذا انہوں نے احرام میں رنگین لباس پہنا تھا، پس میں ہرگز یہ نہ دیکھوں کہ تم میں سے کوئی احرام کی حالت میں رنگین کپڑا پہنے۔“
یہ سند صحیح اور موقوف ہے، اور یہ اثر ’سدِ ذرائع‘ (فتنے کے ممکنہ راستوں کو بند کرنے) کے باب میں ایک بنیادی اصل کی حیثیت رکھتا ہے۔