المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ الِاعْتِمَارِ قَبْلَ الْحَجِّ باب: حج کی ادائیگی سے پہلے عمرہ کرنے کے جائز ہونے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِي ، ثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ قَالَ : فَلَقِيتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقُلْتُ لَهَا : إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ ، فَبِأَيَّتِهِمَا أَبْدَأُ ، أَبِالْحَجِّ ، أَمْ بِالْعُمْرَةِ ؟ فَقَالَتِ : ابْدَأْ بِأَيِّهِمَا شِئْتَ . فَقُلْتُ لَهَا : فَإِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَجَّ قَطُّ ، فَلْيَبْدَأْ بِالْحَجِّ ، فَقَالَتْ لِي : ابْدَأْ بِأَيِّهِمَا شِئْتَ . فَأَتَيْتُ صَفِيَّةَ ، فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ مَا قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ابْدَأْ بِأَيِّهِمَا شِئْتَ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَا آلَ مُحَمَّدٍ ، مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيَجْعَلْ عُمْرَةً مَعَ حَجِّهِ ، أَوْ مَعَ حَجَّةٍ .ابو عمران تجیبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے رفقاء (موالی) کے ہمراہ حج کیا اور بیان کرتے ہیں کہ میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی کہ میں نے زندگی میں کبھی حج نہیں کیا، تو میں (مناسک کی) شروعات کس سے کروں، حج سے یا عمرہ سے؟ انہوں نے فرمایا: "تم جس سے چاہو آغاز کر لو"۔ میں نے عرض کی کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ جس نے زندگی میں پہلے کبھی حج نہ کیا ہو اسے پہلے حج ہی سے ابتدا کرنی چاہیے، انہوں نے پھر مجھ سے وہی فرمایا کہ: "تم جس سے چاہو ابتدا کر لو"۔ پھر میں ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے بھی یہی دریافت کیا، انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا کہ: "تم جس سے چاہو ابتدا کر لو"۔ اس کے بعد میں دوبارہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے جواب سے آگاہ کیا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے آلِ محمد! تم میں سے جو بھی حج کرے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے حج کے ساتھ عمرہ کو بھی شامل کر لے“۔