المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَجْدِيدِ الْوُضُوءِ إِذَا صَلَّى بِالْأَوَّلِ باب: پہلے وضو سے نماز پڑھنے کے بعد وضو کی تجدید کا بیان۔
حدیث نمبر: 117
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَحْمَوَيْهِ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، أَنَا أَبُو خَلْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنِي مَنْ كَانَ يَخْدُمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : هَذَا مَا حَفِظْتُ لَكُمْ مِنْهُ : " كَانَ إِذَا صَلَّى ثُمَّ لَمْ يَبْرَحْ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَحْضُرَ صَلَاتُهُ ، تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ " .ترجمہ
رسول اللہ ﷺ کے ایک خادم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”یہ وہ بات ہے جو میں نے تمہارے لیے آپ ﷺ کے معمولات سے محفوظ کر رکھی ہے کہ آپ ﷺ جب نماز ادا فرما لیتے اور پھر مسجد ہی میں تشریف فرما رہتے یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت آ جاتا، تو آپ ﷺ مسجد کے اندرونی حصے ہی میں ہلکا سا وضو فرما لیا کرتے تھے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (131) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں راوی صالح بن عمر ثقہ ہیں اور صحابی کا نام مبہم ہونا صحتِ حدیث کے لیے مضر نہیں کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں۔