المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ وَعَكْسِهِ وَمَا جَاءَ فِي الْقِرَانِ باب: حج کو عمرہ اور عمرہ کو حج میں بدلنے، نیز حجِ قران کا بیان۔
حدیث نمبر: 1175
قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَمَنْ أَرَادَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَقُلْ كَمَا أَقُولُ ، ثُمَّ لَبَّى ، فَقَالَ : بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .ترجمہ
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام سعد بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب ہم میقاتِ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا ارادہ حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ ادا کرنے (حجِ قران) کا ہے، لہٰذا تم میں سے جو کوئی یہ عمل کرنا چاہے اسے چاہیے کہ وہی کہے جو میں کہہ رہا ہوں۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے تلبیہ پکارا اور فرمایا: «بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ مَعًا» ”میں عمرہ اور حج دونوں کی ایک ساتھ نیت کرتا ہوں۔“
یہ اثر صحیح اور موقوف ہے۔