المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ وَعَكْسِهِ وَمَا جَاءَ فِي الْقِرَانِ باب: حج کو عمرہ اور عمرہ کو حج میں بدلنے، نیز حجِ قران کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، ثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَدِمَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَصْحَابٍ لَهُ قَدْ جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَقِيلَ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ عِمْرَانَ قَدِمَ فِي أَصْحَابٍ لَهُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ : أَنِ اخْتَرْ أَحَدَهُمَا . فَقَالَ عِمْرَانُ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَهَانَا ، وَقَدْ خَيَّرَنَا
، فَأَنَا أَخْتَارُ الْحَجَّ .محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ تشریف لائے جنہوں نے حج اور عمرہ (کے احرام) کو ایک ساتھ جمع کر رکھا تھا، جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع دی گئی کہ عمران اپنے رفقاء کے ہمراہ حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھ کر آئے ہیں تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ: ”ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔“ اس پر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”امیر المؤمنین نے ہمیں (اس طرح قران کرنے سے) منع فرمایا ہے اور ہمیں اختیار بھی دیا ہے، لہٰذا میں حج کا انتخاب کرتا ہوں۔“
علمی و فقہی اعتبار سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی منشا یہ تھی کہ زائرین حج اور عمرہ کے سفر جداگانہ طور پر کریں تاکہ سال کے تمام مہینوں میں بیت اللہ کی رونق اور آبادی برقرار رہے، اور سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین کے حکم کے احترام اور نظمِ جماعت کی خاطر اپنی مرضی کے بجائے خلیفہ کی تجویز کردہ صورت کو اختیار فرمایا۔