❮
❯
حدیث نمبر: 1173
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَلِيحٍ ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَنْزِعُ ثِيَابَهَا ، فَقَالَ : مَا لَكِ ؟ قَالَتْ : أُنْبِئْتُ أَنَّكَ أَحْلَلْتَ أَهْلَكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَلْ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ بَدَنَةٌ ، فَأَمَّا نَحْنُ فَلَمْ نَحِلَّ ، إِنَّ مَعَنَا بُدْنًا ، حَتَّى نَبْلُغَ عَرَفَاتٍ .
ترجمہ

امام ابویعلیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حج کا سفر کیا، (ایک مرحلے پر) آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا کہ وہ اپنے (احرام کے) کپڑے اتار رہی ہیں، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے عرض کی کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کو احرام سے حلال ہونے کی اجازت دے دی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، (یہ رخصت) اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس قربانی کا اونٹ نہ ہو، لیکن جہاں تک ہمارا معاملہ ہے تو ہم ابھی احرام سے حلال نہیں ہوئے کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کے جانور موجود ہیں، یہاں تک کہ ہم عرفات تک پہنچ جائیں۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1173
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 3890، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 4309، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 526»