المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ وَعَكْسِهِ وَمَا جَاءَ فِي الْقِرَانِ باب: حج کو عمرہ اور عمرہ کو حج میں بدلنے، نیز حجِ قران کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي مَلِيحٍ ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَنْزِعُ ثِيَابَهَا ، فَقَالَ : مَا لَكِ ؟ قَالَتْ : أُنْبِئْتُ أَنَّكَ أَحْلَلْتَ أَهْلَكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَلْ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ بَدَنَةٌ ، فَأَمَّا نَحْنُ فَلَمْ نَحِلَّ ، إِنَّ مَعَنَا بُدْنًا ، حَتَّى نَبْلُغَ عَرَفَاتٍ .امام ابویعلیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ حج کا سفر کیا، (ایک مرحلے پر) آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا کہ وہ اپنے (احرام کے) کپڑے اتار رہی ہیں، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے عرض کی کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کو احرام سے حلال ہونے کی اجازت دے دی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، (یہ رخصت) اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس قربانی کا اونٹ نہ ہو، لیکن جہاں تک ہمارا معاملہ ہے تو ہم ابھی احرام سے حلال نہیں ہوئے کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کے جانور موجود ہیں، یہاں تک کہ ہم عرفات تک پہنچ جائیں۔“