المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُحْرِمِ باب: حالتِ احرام والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1170
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ خَرَجَ حَاجًّا فَمَاتَ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْحَاجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَمَاتَ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْمُعْتَمِرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَمَاتَ كُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْغَازِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .ترجمہ
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص حج کے ارادے سے نکلا اور (راستے میں ہی) فوت ہو گیا، تو اس کے لیے قیامت کے دن تک حج کرنے والے کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، اور جو شخص عمرہ کی نیت سے نکلا اور وفات پا گیا، تو اس کے لیے قیامت تک عمرہ کرنے والے کا اجر ثبت کر دیا جاتا ہے، اور جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا اور (راستے میں) اس کا انتقال ہو گیا، تو اس کے لیے روزِ قیامت تک غازی کا اجر و ثواب مسلسل لکھا جاتا رہتا ہے۔“