المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُقَالُ بَعْدَ الْوُضُوءِ باب: وضو کے بعد پڑھے جانے والے اذکار اور دعاؤں کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ النَّخَعِيِّ ، ثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ مِنَ الْجَنَّةِ ، مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی مسلمان بندہ وضو کرے اور خوب اچھی طرح (کامل) وضو کرے، پھر تین مرتبہ یہ کہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور بے شک محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“
یہ روایت امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (رقم الحدیث: 130) میں نقل کی ہے، اس کی سند میں عمرو بن عبد اللہ بن وہب النخعی نامی راوی ضعیف ہے، تاہم وضو کے بعد کلماتِ شہادت کی فضیلت صحیح مسلم میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح روایت سے ثابت ہے۔