المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُحْرِمِ باب: حالتِ احرام والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1165
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِابْنِ الْمُنْكَدِرِ : أَتَحُجُّ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ ؟ قَالَ : الْحَجُّ أَقْضَى لِلدَّيْنِ .ترجمہ
امام حمیدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی، وہ محمد بن سوقہ سے روایت کرتے ہیں کہ جلیل القدر تابعی سیدنا ابن المنکدر رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ اس حالت میں بھی حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں جب کہ آپ پر قرض کا بوجھ ہے؟ تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا: ”حج تو قرض کی ادائیگی میں (دیگر ذرائع سے) کہیں زیادہ معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔“
شارحینِ حدیث اس قول کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا حج فقر کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے بندے کے لیے قرض کی ادائیگی کے غیبی راستے کھول دیتے ہیں۔