المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُحْرِمِ باب: حالتِ احرام والے کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي مِرْدَاسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَحَدَّثَنَا قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ أَوْ رَجُلٍ يُهِلُّ إِلَّا قَالَ اللهُ تَعَالَى : أَبْشِرْ ، فَقَالَ عَمُّ مِرْدَاسٍ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، وَاللهِ لَا يُبَشِّرُ اللهُ تَعَالَى إِلَّا بِالْجَنَّةِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ يَا ابْنَ أَخِي ؟ قَالَ : أَنَا مِرْدَاسُ بْنُ شَدَّادٍ الْجُنَيْدِيُّ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، كَانَ خِيَارُنَا يَتَتَابَعُونَ عَلَى ذَلِكَ .مرداس بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان فرمائی کہ ”کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو (حج کے تلبیہ یا ذکرِ الٰہی میں) اپنی آواز بلند کرے «يُهِلُّ» (پکارے) مگر اللہ تعالیٰ اسے فرماتا ہے: ”تجھے خوشخبری ہو «أَبْشِرْ» (خوش ہو جا)“، یہ سن کر مرداس کے چچا نے عرض کیا: اے ابو محمد! اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تو (ایسے موقع پر) محض جنت ہی کی خوشخبری عطا فرماتا ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا کہ اے میرے بھتیجے تم کون ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں مرداس بن شداد الجنیدی ہوں، تب آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! ہمارے بہترین اسلاف تواتر کے ساتھ اسی طریقے اور عمل پر کاربند رہا کرتے تھے۔