المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ باب: دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ شُبْرُمَةَ فَقَالَ : وَمَا شُبْرُمَةُ ؟ ، فَذَكَرَ قَرَابَةً لَهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَاحْجُجْ عَنْ نَفْسِكَ ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ .
1152 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا .
وَالْمَحْفُوظُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو شبرمہ نامی کسی فرد کی طرف سے حج کا تلبیہ پکار رہا تھا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ شبرمہ کون ہے؟“ اس شخص نے اپنے کسی قریبی رشتہ دار کا ذکر کیا، اس پر آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے پہلے اپنا ذاتی حج ادا کر لیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پہلے اپنی طرف سے حج کرو، پھر اس کے بعد شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“
امام مسدد رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے، جبکہ محدثین کے نزدیک اس حدیث میں محفوظ اور مستند بات یہ ہے کہ یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے مروی ہے۔