المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِحَجِّ الذَّرَارِيِّ وَالرَّقِيقِ وَوُجُوبِهِ عَلَيْهِمْ إِذَا بَلَغُوا باب: بچوں اور غلاموں کو حج کرانے اور بلوغ کے بعد حج واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1141
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ قَطَنٍ ، عَنْ آمِنَةَ بِنْتِ مُحْرِزٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَحِجُّوا الذُّرِّيَّةَ ، لَا تَأْكُلُوا أَرْزَاقَهَا وَتَدَعُوا آثَامَهَا فِي أَعْنَاقِهَا .ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اپنی اولاد کو حج کرواؤ، ایسا نہ ہو کہ تم ان کے حصے کا رزق (مال) تو خود کھا جاؤ لیکن (حج کی ادائیگی میں تاخیر کر کے) ان کے گناہوں کا وبال ان کی گردنوں پر ہی چھوڑ دو۔“
اس سے مراد یہ ہے کہ جب بچے صاحبِ مال ہوں اور سنِ بلوغ کو پہنچ جائیں تو ان پر حج کی فرضیت لازم ہو جاتی ہے، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ ان کے مال سے ان کا فریضہ ادا کریں تاکہ وہ گناہوں کے بوجھ سے آزاد ہو سکیں۔