المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّدْبِ إِلَى الْحَجِّ كُلَّ خَمْسَةِ أَعْوَامٍ باب: ہر پانچ سال بعد حج کرنے کی ترغیب اور اس کے استحباب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1140
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، ثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، ثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَهُ جِسْمَهُ ، وَأَوْسَعْتُ عَلَيْهِ فِي الرِّزْقِ ، يَأْتِي عَلَيْهِ خَمْسُ حِجَجٍ لَمْ يَأْتِ إِلَيَّ فِيهِنَّ لَمَحْرُومٌ .ترجمہ
امام ابو یعلیٰ نے اپنی سند سے بیان کیا کہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”بے شک وہ بندہ جس کے جسم کو میں نے صحت و تندرستی عطا کی اور اس کے رزق میں وسعت و فراخی پیدا فرما دی، پھر اس پر پانچ سال کا عرصہ بیت جائے اور وہ (حج یا عمرہ کی سعادت پانے کے لیے) میری بارگاہ میں حاضر نہ ہو، تو وہ شخص (خیرِ کثیر اور ثوابِ عظیم سے) یقیناً محروم ہے۔“