المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِحَجِّ الذَّرَارِيِّ وَالرَّقِيقِ وَوُجُوبِهِ عَلَيْهِمْ إِذَا بَلَغُوا باب: بچوں اور غلاموں کو حج کرانے اور بلوغ کے بعد حج واجب ہونے کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخُو مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا فِي حَجِّ الصَّبِيِّ قَالَ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، فَحَجَّ بِأَهْلِهِ كُلِّهِمْ .امام حمیدی اور ابن ابی عمر دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے موسیٰ بن عقبہ کے بھائی ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی، پھر انہوں نے بچے کے حج کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ جب میں نے یہ حدیث امام محمد بن منکدر رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے (اس عظیم فضیلت کے پیشِ نظر) اپنے تمام اہل و عیال کے ہمراہ حج ادا کیا۔
اس روایت سے یہ جلیل القدر علمی نکتہ حاصل ہوتا ہے کہ سلف صالحین کے نزدیک علم کا اصل ثمرہ عمل تھا، اسی لیے امام محمد بن منکدر رحمہ اللہ نے جب بچے کے حج کے متعلق فضیلت کی روایت سنی تو محض اسے سننے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فوری طور پر اپنے تمام چھوٹے بڑے اہل خانہ کو ساتھ لے کر فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرنے تشریف لے گئے۔