المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ حَرَمِ مَكَّةَ باب: مکہ مکرمہ کی حرمت اور اس کے حدودِ حرم کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ ، فَهُوَ الْيَوْمَ كَهَيْئَةِ يَوْمِ خَلَقَ اللهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَإِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ : رَجَبُ مُضَرَ بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ ، وَذُو الْقَعْدَةِ ، وَذُو الْحَجَّةِ ، وَالْمُحَرَّمُ ، وَإِنَّ النَّسِيءَ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى : مَا حَرَّمَ اللهُ ، ذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَجْعَلُونَ صَفَرًا عَامًا حَلَالًا وَعَامًا حَرَامًا ، وَكَذَا الْمُحَرَّمُ ، وَذَلِكَ النَّسِيءُ مِنَ الشَّيْطَانِ - الْحَدِيثَ ... وَفِيهِ : أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قَالُوا : يَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ : أَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ قَالُوا : شَهْرٌ حَرَامٌ ؟ قَالَ : أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ قَالُوا : بَلَدٌ حَرَامٌ ، قَالَ : فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ، وَأَعْرَاضَكُمْ ، كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ فِي هَذَا الشَّهْرِ ، أَلَا لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ ، أَلَا فَلْيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدِ ، اللَّهُمَّ اشْهَدِ . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
1134 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ .
1134 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ، عَنْ مُوسَى .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) خطبہ ارشاد فرمایا اور (دورانِ خطاب) فرمایا: ”اے لوگو! زمانہ گھوم کر اپنی اسی اصل حالت پر واپس آگیا ہے جیسا کہ وہ اس دن تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، اور یقیناً اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ (سورۃ التوبہ: 36)، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں: (ایک) قبیلہ مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان ہے، اور ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ اور (مہینوں کو آگے پیچھے کرنا یعنی) نسیء تو کفر میں مزید اضافہ ہے جس کے ذریعے کافروں کو گمراہی میں ڈالا جاتا ہے ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ (سورۃ التوبہ: 37)، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ لوگ ایک سال صفر کو حلال کر لیتے اور دوسرے سال اسے حرام ٹھہرا دیتے تھے، اور اسی طرح وہ محرم کے ساتھ بھی کرتے تھے، اور یہ نسیء شیطان کی طرف سے تھا“۔ حدیث میں مزید یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: حرمت والا دن ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حرمت والا شہر (مکہ) ہے۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئوں کو اسی طرح حرام قرار دیا ہے جیسے تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے کے آج کے اس دن کی حرمت ہے؛ خبردار! میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور تمہارے بعد کوئی (نئی) امت نہیں ہوگی، آگاہ رہو! جو یہاں موجود ہے وہ (میرا پیغام) اس تک پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہے“۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھ بلند کیے اور تین بار عرض کیا: «اللَّهُمَّ اشْهَدِ، اللَّهُمَّ اشْهَدِ» ”اے اللہ! تو گواہ رہنا، اے اللہ! تو گواہ رہنا“۔
امام عبد بن حمید نے اسے ابوبکر بن ابی شیبہ کی سند سے طویل روایت کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی اسے موسیٰ بن عبیدہ کے واسطے سے ایک اور طریق سے بیان کیا ہے۔