المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْحَاجِّ باب: حاجی کی فضیلت کا بیان۔
( 45 ) حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ : مَنْ خَرَجَ حَاجًّا فَمَاتَ ، يَأْتِي فِي فَضْلِ الْجِهَادِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى .
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَرَجُلٌ مِنْ ثَقِيفَ ، فَلَمَّا سَلَّمَا قَالَا : جِئْنَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ نَسْأَلُكَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتُمَا أَخْبَرْتُكُمَا بِمَا تَسْأَلَانِي عَنْهُ فَعَلْتُ ، وَإِنْ شِئْتُمَا أَنْ أَسْكُتَ وَتَسْأَلَانِي فَعَلْتُ . قَالَا : أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللهِ نَزْدَدْ إِيمَانًا ، أَوْ نَزْدَدْ يَقِينًا . شَكَّ إِسْمَاعِيلُ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلثَّقَفِيِّ : سَلْ ، قَالَ : بَلْ أَنْتَ فَسَلْهُ ; فَإِنِّي لَأَعْرِفُ لَكَ حَقَّكَ ، فَسَلْهُ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : جِئْتَنِي تَسْأَلُنِي عَنْ مَخْرَجِكَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ، وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالْبَيْتِ ، وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَكْعَتَيْكَ بَعْدَ الطَّوَافِ وَمَا لَكَ فِيهِمَا ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ وُقُوفِكَ بِعَرَفَةَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ رَمْيِكَ الْجِمَارَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ نَحْرِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ حِلَاقِكَ رَأْسَكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ وَعَنْ طَوَافِكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَمَا لَكَ فِيهِ ؟ . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَعَنْ هَذَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ تَؤُمُّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ، لَمْ تَضَعْ نَاقَتُكَ خُفًّا وَلَمْ تَرْفَعْهُ إِلَّا كَتَبَ اللهُ تَعَالَى لَكَ بِهِ حَسَنَةً ، وَمَحَا عَنْكَ بِهِ خَطِيئَةً ، وَرَفَعَ لَكَ بِهَا دَرَجَةً ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ ، وَأَمَّا رَكْعَتَاكَ بَعْدَ الطَّوَافِ فَإِنَّهَا كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَكَعِتْقِ سَبْعِينَ رَقَبَةً ، وَأَمَّا وُقُوفُكَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ ، يَقُولُ : هَؤُلَاءِ عِبَادِي جَاؤُونِي شُعْثًا غُبْرًا مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ، يَرْجُونَ رَحْمَتِي وَمَغْفِرَتِي ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكُمْ عَدَدَ الرَّمْلِ ، أَوْ كَزَبَدِ الْبَحْرِ لَغَفَرْتُهَا ، أَفِيضُوا عِبَادِي مَغْفُورًا لَكُمْ ، وَلِمَنْ شَفَعْتُمْ لَهُ ، وَأَمَّا رَمْيُكَ الْجِمَارَ فَلَكَ بِكُلِّ حَصَاةٍ رَمَيْتَهَا كَبِيرَةٌ مِنَ الْكَبَائِرِ الْمُوبِقَاتِ الْمُوجِبَاتِ ، وَأَمَّا نَحْرُكَ فَمَدْخُورٌ لَكَ عِنْدَ رَبِّكَ ، وَأَمَّا حِلَاقُ رَأْسِكَ فَبِكُلِّ شَعَرَةٍ حَلَقْتَهَا حَسَنَةٌ ، وَتُمْحَى عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةٌ . قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَإِنْ كَانَتِ الذُّنُوبُ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : إِذًا تُدَّخَرُ لَكَ فِي حَسَنَاتِكَ ، وَأَمَّا طَوَافُكَ بِالْبَيْتِ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَإِنَّكَ تَطُوفُ وَلَا ذَنْبَ لَكَ ، يَأْتِي مَلَكٌ حَتَّى يَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْكَ ، ثُمَّ يَقُولُ : اعْمَلْ لِمَا تُسْتَقْبَلُ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى . فَذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ .
( 46 ) وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الصَّلَاةِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجدِ خیف میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تشریف فرما تھا کہ آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ایک انصاری اور ایک ثقفی شخص حاضر ہوئے، ان دونوں نے سلام عرض کرنے کے بعد التجا کی کہ اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے کچھ سوالات کرنے حاضر ہوئے ہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں خود خبر دے دوں کہ تم مجھ سے کیا پوچھنے آئے ہو اور اگر تم چاہو کہ میں خاموش رہوں اور تم خود سوال کرو تو ایسا کر لو“، انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہی ہمیں بتا دیجیے تاکہ ہمارے ایمان و یقین میں مزید اضافہ ہو؛ پھر انصاری نے ایثار کرتے ہوئے ثقفی سے کہا کہ تم پہلے پوچھ لو، مگر اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ پہلے آپ ہی دریافت کریں کیونکہ میں آپ کے حقِ تقدم کو جانتا ہوں، چنانچہ انصاری نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہی ارشاد فرمائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میرے پاس یہ پوچھنے آئے ہو کہ تمہارا بیت اللہ کا ارادہ کر کے گھر سے نکلنے کا کیا اجر ہے؟ طوافِ کعبہ اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کا کیا ثواب ہے؟ صفا و مروہ کی سعی کی کیا منزلت ہے؟ عرفات میں وقوف کرنے، جمرات کو کنکریاں مارنے، قربانی کرنے، سر منڈوانے اور اس کے بعد طوافِ افاضہ کرنے کی کیا فضیلت ہے؟“ اس شخص نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں بعینہٖ انہی باتوں کے متعلق دریافت کرنے حاضر ہوا تھا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً جب تم بیت اللہ کا قصد کر کے اپنے گھر سے نکلتے ہو تو تمہاری اونٹنی جو قدم بھی رکھتی یا اٹھاتی ہے اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، ایک گناہ مٹا دیتا ہے اور تمہارا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے؛ تمہارا بیت اللہ کا طواف کرنا اور اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا اولادِ اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، صفا و مروہ کی سعی کرنا ستر غلام آزاد کرنے کے مترادف ہے، اور جب تم عرفہ کی شام وہاں وقوف کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ (اپنی شان کے مطابق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور تمہارے ذریعے فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: دیکھو یہ میرے بندے ہیں جو پراگندہ حال اور گرد و غبار میں اٹے ہوئے دور دراز راستوں ﴿مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ﴾ [سورہ الحج: 27] سے میری رحمت اور مغفرت کی امید لیے میرے پاس آئے ہیں، اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں یا سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تب بھی میں انہیں معاف کر دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بخشے بخشائے واپس لوٹ جاؤ، تمہاری بھی مغفرت ہوئی اور ان کی بھی جن کی تم سفارش کرو؛ اور جمرات کو کنکریاں مارنا تمہارے ان بڑے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے جو انسان کو ہلاک کرنے والے ہیں، تمہاری قربانی تمہارے رب کے ہاں تمہارے لیے ذخیرہ کر دی جاتی ہے، سر منڈوانے کے عوض ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے“، اس شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر گناہ ان نیکیوں سے کم ہوں تو کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب یہ فضائل تمہاری نیکیوں کے پلڑے میں ذخیرہ کر دیے جائیں گے، اور رہا تمہارا اس کے بعد طوافِ کعبہ کرنا تو تم اس حال میں طواف کرتے ہو کہ تمہارے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں رہتا، یہاں تک کہ ایک فرشتہ آ کر تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ: اب نئے سرے سے عمل کا آغاز کرو کیونکہ تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے گئے ہیں“۔
مؤلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا تذکرہ نماز کے بیان میں پہلے گزر چکا ہے۔