❮
❯
حدیث نمبر: 1132
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ، وَفِيهِ : وَمَنْ خَرَجَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَلَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَتَّى يَرْجِعَ أَلْفُ أَلْفِ حَسَنَةٍ ، وَمَحْوُ أَلْفِ أَلْفِ سَيِّئَةٍ ، وَرَفْعُ أَلْفِ أَلْفِ دَرَجَةٍ ، وَلَهُ عِنْدَ رَبِّهِ بِكُلِّ دِرْهَمٍ يُنْفِقُهُ أَلْفُ أَلْفِ دِرْهَمٍ ، وَبِكُلِّ دِينَارٍ أَلْفُ أَلْفِ دِينَارٍ ، وَلَهُ بِكُلِّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا أَلْفُ أَلْفِ حَسَنَةٍ ، حَتَّى يَرْجِعَ وَهُوَ فِي ضَمَانِ اللهِ تَعَالَى ، فَإِنْ تَوَفَّاهُ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ رَجَعَهُ رَجَعَهُ مَغْفُورًا لَهُ ، مُسْتَجَابًا لَهُ ، فَاغْتَنِمُوا دَعْوَتَهُ إِذَا قَدِمَ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَ الذُّنُوبَ ; فَإِنَّهُ يَشْفَعُ فِي مِائَةِ أَلْفِ رَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں یہ بھی ذکر کیا کہ: ”جو شخص حج یا عمرہ کی غرض سے (گھر سے) نکلا، تو اس کے واپس لوٹنے تک اسے ہر قدم کے بدلے دس لاکھ نیکیاں عطا کی جاتی ہیں، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور اس کے دس لاکھ درجات بلند کر دیے جاتے ہیں، نیز اس کے رب کے حضور اس کے خرچ کردہ ہر درہم کے بدلے دس لاکھ درہم اور ہر دینار کے بدلے دس لاکھ دینار کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور وہ جو بھی نیک عمل کرتا ہے اس کے بدلے اسے دس لاکھ گنا اجر ملتا ہے یہاں تک کہ وہ واپس لوٹ آئے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی امان و ضمانت میں ہوتا ہے، پس اگر اللہ اسے (اسی حالت میں) وفات دے دے تو اسے جنت میں داخل فرماتا ہے اور اگر اسے سلامتی کے ساتھ واپس لائے تو وہ اس حال میں لوٹتا ہے کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے اور اس کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں؛ لہٰذا جب حاجی (سفر سے) واپس آئے تو اس کے دوبارہ گناہوں میں ملوث ہونے سے پہلے اس کی دعا کو غنیمت جانو، کیونکہ وہ قیامت کے دن ایک لاکھ افراد کے حق میں شفاعت کرے گا“۔
ائمہ محققین کے نزدیک یہ حدیث من گھڑت (موضوع) ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1132
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ . »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 245»