المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ باب: وضو سے فراغت کے بعد (شرمگاہ کے مقام پر پانی کے) چھینٹے مارنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، " فَدَعَا بِمَاءٍ فَذَكَرَ صِفَةَ الْوُضُوءِ ، قَالَ : ثُمَّ نَضَحَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ ثَوْبِهِ ، فَقَالَ : هَذَا إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ ”وضو کو کامل طریقے سے (اسباغ کے ساتھ) بجا لانا کیا ہے؟“ رسول اللہ ﷺ اس وقت خاموش رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور وضو کا مکمل طریقہ (عملاً کر کے) دکھایا، راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اپنے کپڑے کے نیچے (شرمگاہ کے قریب) پانی کے چھینٹے مارے اور ارشاد فرمایا: ”یہ ہے وضو کو کامل طریقے سے مکمل کرنا۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابومعشر نجیح بن عبدالرحمن السندی اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم وضو کے بعد شرمگاہ کے قریب پانی چھڑکنے کی اصل دیگر احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔