المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَرْكِ التَّوْقِيتِ باب: مسح کے لیے مدت مقرر نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 111
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَرَأْتُ لِعَطَاءٍ كِتَابًا مَعَهُ ، فَإِذَا فِيهِ : حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيَخْلَعُ الرَّجُلُ خُفَّيْهِ كُلَّ سَاعَةٍ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، وَلَكِنْ يَمْسَحُهُمَا مَا بَدَا لَهُ " .ترجمہ
سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا (نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا کوئی شخص (وضو کے وقت) ہر گھڑی اپنے موزے اتار دیا کرے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ جب تک اس کا جی چاہے وہ ان پر مسح کرتا رہے۔“
مسند ابی یعلی: 111، اس کی سند میں راوی عمر بن اسحاق بن یسار کے حالات مخفی (مستور) ہیں، تاہم موزوں پر مسح کرنے کی اصل دیگر صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔