❮
❯
حدیث نمبر: 111
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : قَرَأْتُ لِعَطَاءٍ كِتَابًا مَعَهُ ، فَإِذَا فِيهِ : حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيَخْلَعُ الرَّجُلُ خُفَّيْهِ كُلَّ سَاعَةٍ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، وَلَكِنْ يَمْسَحُهُمَا مَا بَدَا لَهُ " .
ترجمہ

سیدتنا میمونہ رضی اللہ عنہا (نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا کوئی شخص (وضو کے وقت) ہر گھڑی اپنے موزے اتار دیا کرے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ جب تک اس کا جی چاہے وہ ان پر مسح کرتا رہے۔“
مسند ابی یعلی: 111، اس کی سند میں راوی عمر بن اسحاق بن یسار کے حالات مخفی (مستور) ہیں، تاہم موزوں پر مسح کرنے کی اصل دیگر صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 111
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ليس بالقوي. »
«أخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7094، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 111»