المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَوَّلِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: موزوں پر مسح کی ابتدا کا بیان۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاصِلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ رَأَيْتُ عَلَيْهِ خُفَّيْنِ فِي الْإِسْلَامِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَتَانَا وَنَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَيْهِ خُفَّانِ أَسْوَدَانِ ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمَا وَيَعْجَبُ مِنْهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ سَتَكْثُرُ لَكُمْ ، أَيِ الْخِفَافُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمْسَحُونَ عَلَيْهَا وَتُصَلُّونَ " .سیدنا عبداللہ بن مغفل المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اسلام میں جس پہلے شخص کو میں نے چمڑے کے موزے پہنے ہوئے دیکھا وہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں موجود تھے اور انہوں نے سیاہ رنگ کے دو موزے پہن رکھے تھے، تو لوگ (صحابہ) انہیں دیکھنے لگے اور ان پر تعجب کا اظہار کرنے لگے، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! عنقریب تمہارے پاس ان (موزوں) کی کثرت ہو جائے گی۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو ہم ان کے ساتھ کیا کریں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ان پر مسح کر لیا کرو اور (انہیں پہن کر) نماز پڑھ لیا کرو۔“
[أخرجه الطيالسي في مسنده: 124، ط: دار هجر، والبيهقي في السنن الكبرى: 1/283، وإسناده حسن]