❮
❯
حدیث نمبر: 1105
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ عَنِ الْأَرْنَبِ ، فَقَالَ : مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : جَاءَ بِهَا الْأَعْرَابِيُّ ، وَقَدْ تَطَيَّبَهَا وَصَنَعَهَا وَأَهْدَاهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : رَأَيْتُهَا تَدْمَى ، أَيْ تَحِيضُ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ : كُلُوا . فَلَمْ يَأْكُلِ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْكُلَ؟ قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ قَالَ : فَهَلَّا الْبِيضَ ؟ .
هَكَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ .
1105 \ 2 - وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَحَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَبَيَّنَ أَنَّ الرَّجُلَ الْمَذْكُورَ الَّذِي حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ هُوَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
1105 \ 3 - وَرَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ عَنِ الْهَيْثَمِ الصَّوَّافِ ، عَنْ مُوسَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ ، عَنْ عُمَرَ .
وَرُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ

سیدنا یزید بن الحوتکیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے خرگوش (کے گوشت کے شرعی حکم) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھا جب ایک اعرابی (دیہاتی) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا؟“ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کیا: وہ اعرابی ایک خرگوش لایا تھا جسے اس نے صاف کر کے اور عمدہ طریقے سے تیار کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا تھا، اس (دیہاتی) نے (اسے کھانے میں ہچکچاہٹ کی وجہ یہ بتائی کہ) میں نے اسے خون بہاتے ہوئے دیکھا ہے یعنی اسے حیض آتا ہے، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے وہاں موجود لوگوں سے فرمایا: ”تم اسے کھاؤ۔“ مگر اس اعرابی نے خود کھانے سے گریز کیا تو آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”تمہیں اسے کھانے سے کس شے نے روکا ہے؟“ اس نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم نے ایامِ بیض (ہر ماہ کی ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخ) کے روزے کیوں نہ رکھے؟“
حجاج بن ارطاۃ نے اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا ہے اور وہ مدلس راوی ہیں، نیز اسے محمد بن عبدالرحمن اور حکیم بن جبیر نے موسیٰ بن طلحہ کے واسطے سے ابن الحوتکیہ سے اور انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ شخص جس نے یہ واقعہ بیان کیا وہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہی تھے، علاوہ ازیں امام ابوحنیفہ نے اسے ہیثم صواف سے، انہوں نے موسیٰ سے، انہوں نے یزید بن الحوتکیہ سے اور انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جبکہ ایک طریق میں اسے موسیٰ بن طلحہ کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1105
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَكَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2128، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3655، وأخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 299، وأخرجه سنن النسائي برقم: 2423 / 4، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 2743، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 761، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8534، وأخرجه مسند أحمد برقم: 21729، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 477، وأخرجه مسند الحميدي برقم: 136، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 185، وأخرجه مسند البزار برقم: 4064، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7873، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 3316، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3047»