المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ باب: ہر ماہ کے تین دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1104
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، ثَنَا أَبُو هُبَيْرَةَ ، عَنْ صَدَقَةَ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ الصَّوْمِ ، فَقَالَ : إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ صِيَامَ خَيْرِ الْبَشَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُمِّيِّ الْعَرَبِيِّ الْقُرَشِيِّ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَيَقُولُ : هِيَ صِيَامُ الدَّهْرِ . صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .ترجمہ
صدقہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روزوں کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اگر تم تمام انسانوں میں سب سے بہترین ہستی، نبیِ اُمّی، عربی، قرشی، حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا اسلوب جاننا چاہتے ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین دن روزے رکھا کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”یہ (تین دن کے روزے) صیامِ دہر (یعنی ہمیشہ کے روزوں) کے برابر ہیں“۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔