المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ باب: ہر ماہ کے تین دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1103
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَوْمُ رَمَضَانَ ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا وَغَرُ الصَّدْرِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَمُهُ وَغِلُّهُ .ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور ہر ماہ کے تین روزے رکھنا سینے کی تپش اور کینہ و حسد کو دور کر دیتے ہیں“، صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سینے کی تپش (وغر الصدر) سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد سینے کی تکلیف اور اس کا کینہ و بغض ہے“
علمائے حدیث کے نزدیک 'وغر' سے مراد وہ شدید غصہ، تپش اور دشمنی ہے جو انسان کے سینے میں جوش مارتی ہے، اور روزے کی برکت سے انسان کا نفس مغلوب ہوتا ہے جس سے یہ قلبی و باطنی امراض جڑ سے ختم ہو جاتے ہیں۔