❮
❯
حدیث نمبر: 1093
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ ، عَنْ هُودِ بْنِ شِهَابِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَبْيَاتٍ بِعَرَفَاتٍ ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذِهِ الْأَبْيَاتُ ؟ قُلْنَا : لِعَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالَ لَهُمْ خَيْرًا ، وَنَهَاهُمْ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ .
قَالَ : وَحَجَّ أَبِي ، وَطَلِيقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ ، فَاخْتَلَفَا فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَقَالَ أَبِي : بَيْنَكَ وَبَيْنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، فَأَتَيَاهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، اخْتَلَفْنَا فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، فَجَعَلْنَاكَ بَيْنَنَا ، فَقَالَ : أُخْبِرُكُمْ عَمَّنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَصُومُهُ .
ترجمہ

ہود بن شہاب بن عباد اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عرفات میں چند خیموں کے پاس سے گزرے اور دریافت فرمایا: ”یہ خیمے کس کے ہیں؟“ ہم نے عرض کیا: عبدالقیس کے لوگوں کے۔ آپ نے ان کے لیے بھلائی کی دعا فرمائی اور انہیں عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ میرے والد اور طلیق بن محمد خزاعی نے حج کیا تو عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں ان دونوں میں اختلاف ہوگیا۔ میرے والد نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان سعید بن مسیب رحمہ اللہ فیصلہ کریں گے۔ چنانچہ دونوں ان کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابو محمد! عرفہ کے روزے کے بارے میں ہمارا اختلاف ہوا ہے، اس لیے ہم نے آپ کو اپنے درمیان فیصلہ کرنے والا بنایا ہے۔ انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اپنے سے بہتر شخص، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، کے بارے میں بتاتا ہوں کہ وہ عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1093
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 33167»