المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ إِلَّا بِعَرَفَةَ باب: عرفات میں موجود شخص کے سوا یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1092
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَتْنِي نَدَبَةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : مَنْ صَحِبَنِي مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى ، فَلَا يَصُومَنَّ يَوْمَ عَرَفَةَ ; فَإِنَّهُ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللهِ تَعَالَى .ترجمہ
ندبہ رحمہا اللہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرے ساتھ حج میں شریک ہونے والا کوئی مرد ہو یا عورت، وہ عرفہ کے دن روزہ ہرگز نہ رکھے، کیونکہ یہ کھانے، پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا دن ہے۔“