المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِيَامِ عَاشُورَاءَ باب: یومِ عاشوراء کے روزے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : إِنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوْمُ عَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ وَالَّذِي بَعْدَهُ ، وَصَوْمُ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ .
قُلْتُ : هَذَا إِسْنَادُهُ مَقْلُوبٌ ، وَمَتْنٌ مَقْلُوبٌ ; أَمَّا الْإِسْنَادُ ، فَالصَّوَابُ : حَرْمَلَةُ بْنُ إِيَاسٍ ، هَكَذَا أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ . وَأَمَّا الْمَتْنُ ، فَالصَّوَابُ أَنَّ يَوْمَ عَرَفَةَ هُوَ الَّذِي يُكَفِّرُ السَّنَتَيْنِ ، وَعَاشُورَاءَ يُكَفِّرُ سَنَةً ، كَذَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ وَغَيْرُهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم ﷺ سے یومِ عرفہ اور یومِ عاشورہ کے روزے کے متعلق سوال کیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عاشورہ کا روزہ اپنے سے پہلے اور بعد والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، جبکہ عرفہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
میں کہتا ہوں کہ اس روایت کی سند اور متن دونوں میں راوی سے تسامح ہوا ہے اور ترتیب الٹ گئی ہے؛ سند کے لحاظ سے صحیح نام حرملہ بن ایاس ہے، جیسا کہ امام احمد اور دیگر محدثین نے اسے روایت کیا ہے، اور متن کے اعتبار سے درست بات یہ ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے جبکہ یومِ عاشورہ ایک سال کے گناہوں کی تلافی کرتا ہے، بالکل اسی طرح امام مسلم اور دیگر ائمہ نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہی سے دیگر طرق کے ساتھ اسے صحیح طور پر نقل کیا ہے۔