المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِيَامِ عَاشُورَاءَ باب: یومِ عاشوراء کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1085
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عُلَيْلَةَ بِنْتِ فُلَانٍ الْأَزْدِيَّةِ ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، عَنْ أَمَةِ اللهِ ، عَنْ رَزِينَةَ خَادِمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( ح ) .
1085 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَتْنَا عُلَيْلَةُ ، عَنْ أُمِّهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ لِأَمَةِ اللهِ بِنْتِ رَزِينَةَ : يَا أَمَةَ اللهِ ، حَدَّثَتْكِ أُمُّكِ رَزِينَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ صَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، كَانَ يُعَظِّمُهُ حَتَّى يَدْعُوَ بِرُضَعَائِهِ وَرُضَعَاءِ بِنْتِهِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَيَتْفُلُ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَيَقُولُ : لَا تُرْضِعُوهُمْ إِلَى اللَّيْلِ .
لَمْ يَذْكُرِ الْحَارِثُ السُّؤَالَ .ترجمہ
سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا (جو رسول اللہ ﷺ کی خادمہ تھیں) کی صاحبزادی امۃ اللہ سے مروی ہے، ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کی والدہ سیدہ رزینہ نے آپ کو بتایا تھا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یومِ عاشورہ کے روزے کا تذکرہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، آپ ﷺ اس دن کی اس قدر تعظیم و توقیر فرماتے تھے کہ اپنے اور اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شیر خوار بچوں کو طلب فرماتے اور ان کے دہنِ مبارک میں اپنا لعابِ دہن ڈال دیتے اور (ان کی ماؤں کو) حکم دیتے کہ: ”انہیں رات ہونے تک دودھ نہ پلاؤ۔“
امام حارث کی روایت میں سائل کے سوال کا ذکر موجود نہیں ہے۔