المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِيَامِ عَاشُورَاءَ باب: یومِ عاشوراء کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1084
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَكَانَ لَا يَصُومُهُ .ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”عاشورہ کا روزہ رکھنے“ کا حکم ارشاد فرمایا، حالانکہ آپ ﷺ خود (ابتداءً) یہ روزہ نہیں رکھتے تھے۔
شارحینِ حدیث کے نزدیک اس روایت کی سند میں ابوہارون العبدی نامی راوی ضعیف ہے، نیز یہ متن ان کثیر صحیح روایات کے بظاہر معارض ہے جن میں آپ ﷺ کا خود روزہ رکھنا ثابت ہے، لہٰذا اس کی توجیہ یہ کی جائے گی کہ یہ مکہ سے مدینہ آمد کے بالکل ابتدائی دور کا واقعہ ہے یا پھر راوی سے نقل میں تسامح ہوا ہے۔