❮
❯
حدیث نمبر: 1075
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَكَلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : لَا شَيْءَ عَلَيْكَ . قَالَ : شَرِبْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : لَا شَيْءَ عَلَيْكَ ، قَالَ : فَأَكَلْتُ كَذَا وَكَذَا وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، أَنْتَ لَمْ تَعْتَدِ الصِّيَامَ .
مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .
ترجمہ

سعید مقبری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اگر میں نے روزہ دار ہونے کی حالت میں (بھول کر) کچھ کھا لیا ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔“ اس شخص نے پھر پوچھا کہ اگر میں نے روزہ دار ہونے کے باوجود (بھول کر) کچھ پی لیا ہو؟ انہوں نے فرمایا: ”تب بھی تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔“ اس نے پھر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تو (بھولے سے) فلاں فلاں چیزیں بھی کھا لیں حالانکہ میں روزے سے تھا؟ اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! حقیقت یہ ہے کہ تم روزہ رکھنے کے عادی نہیں ہو (اسی لیے تم بار بار بھول کر کھا پی رہے ہو)۔“
یہ روایت موقوف صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1075
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ . »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 1933، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 1155، وأخرجه المنتقى لابن الجارود برقم: 428، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 1989، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3519، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 1574، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 3262، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 2398، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 722، وأخرجه مسند الدارمي برقم: 1767، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1673، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8167، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 2242، وأخرجه مسند أحمد برقم: 9259، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6038، وأخرجه مسند البزار برقم: 9874، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7372، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 85»