المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا لَمْ يُفْطِرْ باب: بھول کر کھانے سے روزہ نہ ٹوٹنے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَكَلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : لَا شَيْءَ عَلَيْكَ . قَالَ : شَرِبْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : لَا شَيْءَ عَلَيْكَ ، قَالَ : فَأَكَلْتُ كَذَا وَكَذَا وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، أَنْتَ لَمْ تَعْتَدِ الصِّيَامَ .
مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .سعید مقبری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اگر میں نے روزہ دار ہونے کی حالت میں (بھول کر) کچھ کھا لیا ہو تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔“ اس شخص نے پھر پوچھا کہ اگر میں نے روزہ دار ہونے کے باوجود (بھول کر) کچھ پی لیا ہو؟ انہوں نے فرمایا: ”تب بھی تم پر کوئی حرج نہیں ہے۔“ اس نے پھر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تو (بھولے سے) فلاں فلاں چیزیں بھی کھا لیں حالانکہ میں روزے سے تھا؟ اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! حقیقت یہ ہے کہ تم روزہ رکھنے کے عادی نہیں ہو (اسی لیے تم بار بار بھول کر کھا پی رہے ہو)۔“
یہ روایت موقوف صحیح ہے۔