❮
❯
حدیث نمبر: 1062
قَالَ إِسْحَاقُ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ ، فَرَأَيْتُهُ لَا يَنْظُرُ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا شَأْنِي ؟ قَالَ : أَلَسْتَ الَّذِي تُقَبِّلُ وَأَنْتَ صَائِمٌ . قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا ، لَا أُقَبِّلُ بَعْدَهَا وَأَنَا صَائِمٌ ; فَأَقَرَّ بِهِ وَقَالَ : نَعَمْ .
1062 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، مِثْلَهُ .
ترجمہ

اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو اسامہ سے دریافت کیا: کیا آپ سے عمر بن حمزہ نے یہ حدیث بیان کی کہ مجھے سالم نے خبر دی اور وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ﷺ میری طرف التفات نہیں فرما رہے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم وہی نہیں ہو جو روزے کی حالت میں بوسہ لیتے ہو؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے! میں اس کے بعد کبھی روزے کی حالت میں بوسہ نہیں لوں گا؛ اس پر ابو اسامہ نے اس روایت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: جی ہاں (یہ واقعہ اسی طرح ہے)۔
اور امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے بھی اپنی سند میں ابو اسامہ سے اسی کی مثل روایت بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1062
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8189، وأخرجه مسند البزار برقم: 118، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1062 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 7406، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 9502، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 3358، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 4956»