المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ وَغَيْرِهَا وَمَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: روزے دار کے بوسہ لینے کی کراہت اور اس کی اجازت سے متعلق روایات کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ رَزِينٍ الْبَكْرِيِّ ، حَدَّثَتْنَا مَوْلَاةٌ لَنَا يُقَالُ لَهَا سَلْمَى مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، هَلْ مِنْ كِسْرَةٍ ، فَآتَيْتُهُ بِقُرْصٍ فَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ ، وَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، هَلْ دَخَلَ بَطْنِي مِنْهُ شَيْءٌ ، فَكَذَلِكَ قُبْلَةُ الصَّائِمِ ، إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ ، وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ .
1063 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، بِهَذَا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”اے عائشہ! کیا روٹی کا کوئی ٹکڑا میسر ہے؟“ میں آپ ﷺ کی خدمت میں ایک روٹی (ٹکیہ) لے آئی تو آپ ﷺ نے اسے اپنے دہنِ مبارک سے مس کیا اور دریافت فرمایا: ”اے عائشہ! کیا اس میں سے کوئی چیز میرے پیٹ کے اندر گئی ہے؟“ (پھر آپ ﷺ نے اسی مثال سے مسئلہ واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا) ”اسی طرح روزے دار کا (اپنی اہلیہ کو) بوسہ دینا ہے، درحقیقت روزہ کسی چیز کے جسم کے اندر داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے، اس سے نہیں جو جسم سے خارج ہو۔“
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت اپنی سند میں احمد بن منیع کے واسطے سے اسی طرح نقل کی ہے۔