المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کے احکام کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ عُبَيْدَةَ أَوْ عُبَيْدَةُ ، شَكَّ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ، فَقَامَ بِالْغَلَسِ وَقَالَ : " يَا أَنَسُ ، فِي إِدَاوَتِكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَتَنَحَّى فَبَالَ ، وَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَتَوَضَّأَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَمْسَحَ طَأْطَأْتُ ظَهْرِي لِأَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ فَقَالَ : " هُوَ مَا تَرَى " ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر کے دوران رسول اللہ ﷺ کی ہمراہی میں تھا، آپ ﷺ رات کے آخری پہر کی تاریکی میں بیدار ہوئے اور دریافت فرمایا: ”اے انس! کیا تمہارے برتن میں پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، (پھر) آپ ﷺ ایک جانب تشریف لے گئے اور قضائے حاجت فرمائی، پھر میں نے آپ ﷺ کے وضو کے لیے پانی انڈیلا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا، پس جب آپ ﷺ نے مسح کرنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے اپنی کمر کو جھکایا تاکہ (غور سے) دیکھ سکوں کہ آپ ﷺ کیا عمل پیرا ہوتے ہیں، تو آپ ﷺ نے (میری جستجو دیکھ کر) فرمایا: ”یہ وہی (عمل) ہے جو تم دیکھ رہے ہو“، اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں چمڑے کے موزوں پر مسح فرمایا۔
اس روایت کی سند میں امام احمد بن منیع کو راوی "زیاد بن عبیدہ" یا "عبیدہ" کے نام میں شک ہوا ہے، تاہم موزوں پر مسح کے حوالے سے یہ ایک مستند سنت ہے جس کی اصل کتبِ صحاح میں موجود ہے۔