المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 107
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ ، ثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ .
107 \ 2 - وَعَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " كُنَّا نَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ لَا نَنْزِعُ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِحَاجَةٍ فَقَضَيْنَاهَا ، وَنَكُونُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ يَوْمًا وَلَيْلَةً نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا " .ترجمہ
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر میں ہوتے تھے تو اپنی ضرورت (وضو و قضاۓ حاجت) سے فارغ ہونے کے باوجود تین دن اور ان کی راتوں تک اپنے موزے نہیں اتارتے تھے، اور جب ہم آپ ﷺ کی معیت میں مقیم ہوتے تو ہم ایک دن اور ایک رات اپنے موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے دو طرق سے روایت کیا ہے، پہلا طریق عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ بن مرہ کے واسطے سے ان کے والد اور دادا (یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے، جبکہ دوسرا طریق زیاد بن علاقہ کے واسطے سے سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔