المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کے احکام کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " كُنَّا نَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَنُؤْمَرُ بِهِ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَا تَغْضَبْ .
105 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : " كُنَّا نَمْسَحُ خِفَافَنَا " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّا سَمِعْنَاهُ مِمَّنْ لَا يُتَّهَمُ مِنْ أَصْحَابِنَا يَقُولُ : امْسَحْ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، وَاصْنَعْ كَذَا وَكَذَا ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُكَنِّي " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم چمڑے کے موزوں پر مسح کیا کرتے تھے اور ہمیں اس کا حکم دیا جاتا تھا“، تو ایک شخص نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”تم غصہ نہ کرو“۔
احمد بن منیع کی روایت میں ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اپنے موزوں پر مسح کیا کرتے تھے“، تو ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ نبی کریم ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں، لیکن ہم نے یہ بات اپنے ان ساتھیوں سے سنی ہے جن پر کسی قسم کا اتہام یا شبہ نہیں کیا جا سکتا، وہ کہتے تھے کہ موزوں پر مسح کرو اور فلاں فلاں کام کرو، البتہ انہوں نے (ان صحابہ کی) کنیت ذکر نہیں کی“۔