المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السَّحُورِ باب: سحری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1059
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِعَسْكَرِ أَبِي مُوسَى ، فَوَجَدْتُهُ يَطْعَمُ ، فَقَالَ : ادْنُ فَكُلْ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ . فَقَالَ : وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ، فَأَكَلَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ ابْنِ النَّبَّاحِ : أَقِمْ .ترجمہ
سیدنا حبان بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے لشکر میں مقیم تھے، میں نے انہیں کھانا کھاتے ہوئے پایا تو انہوں نے (ہمیں دیکھ کر) فرمایا: ”قریب آ جاؤ اور کھانا کھاؤ“، میں نے عرض کیا: (اے امیر المؤمنین!) میرا تو روزے کا ارادہ ہے، اس پر انہوں نے فرمایا: ”میرا بھی روزے ہی کا ارادہ ہے“، پھر انہوں نے کھانا تناول فرمایا اور جب فارغ ہوئے تو اپنے مؤذن ابن نباح کو حکم دیا: ”نماز کی اقامت کہو“۔