المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السَّحُورِ باب: سحری کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا حَفْصٌ هُوَ ابْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ جَدِّهِ شَيْبَانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ ، فَدَخَلْتُ ، فَأَسْنَدْتُ ظَهْرِي إِلَى حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَسَحَّرُ ، فَتَنَحْنَحْتُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَبُو يَحْيَى ، هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ، وَلَكِنَّ مُؤَذِّنَنَا هَذَا فِي بَصَرِهِ سُوءٌ ، أَوْ فِي بَصَرِهِ شَيْءٌ ، فَإِنَّهُ أَذَّنَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ .
1058 \ 2 - وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ فِي مُسْنَدِهِ وَمُطَيَّنٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ، ثَنَا حَفْصٌ ، بِهِ . [3]
1058 \ 3 - وَقَالَ الْحَسَنُ أَيْضًا وَالْبَغَوِيُّ : ثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، بِهِ .
1058 \ 4 - وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَشْعَثَ بِهِ . وَسَمَّى أَبَا هُبَيْرَةَ يَحْيَى بْنَ عَبَّادٍ .
1058 \ 5 - وَقَالَ ابْنُ مَنْدَهْ : أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مَنْصُورٍ الْإِمَامُ .
1058 \ 6 - وَقَالَ ابْنُ السَّكَنِ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّائِيُّ ، قَالَا : أَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَرْوَانَ ، ثَنَا عَمِّي جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، بِهِ .
1058 \ 7 - قَالَ ابْنُ مَنْدَهْ : وَتَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، يَعْنِي مِنْ قَوْلِهِ : عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ .
قُلْتُ : وَالْأَوَّلُ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ .سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ (ابو ہبیرہ کے دادا) سے روایت ہے کہ میں مسجد میں حاضر ہوا اور نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارک کی دیوار سے اپنی کمر لگا کر بیٹھ گیا، اچانک دیکھا کہ آپ ﷺ سحری فرما رہے ہیں، تو میں نے (اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے) کھنکھارا، اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابو یحییٰ! آؤ، کھانے (سحری) کی طرف آ جاؤ“، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرا تو روزے کا ارادہ ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرا بھی روزے کا ارادہ ہے، لیکن ہمارے اس مؤذن کی بصارت میں کچھ کمزوری یا نقص ہے، اس لیے اس نے فجر طلوع ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی ہے“۔
امام حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اور امام مطین نے بھی اسے حفص کی سند سے نقل کیا ہے، جبکہ امام حسن اور امام بغوی نے داؤد بن رشید کے طریق سے اسے روایت کیا ہے؛ نیز ابن ابی خیثمہ نے عاصم بن علی کے واسطے سے قیس بن ربیع اور اشعث سے اسے نقل کرتے ہوئے ابو ہبیرہ کا نام یحییٰ بن عباد ذکر کیا ہے؛ ابن مندہ نے حسن بن منصور اور ابن السکن نے محمد بن عبداللہ الطائی کے واسطے سے ولید بن مروان، ان کے چچا جنادہ، ان کے والد، اور اشعث کے طریق سے یحییٰ بن عباد بن شیبان از والد از دادا یہ روایت بیان کی ہے؛ امام ابن مندہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن شریک نے بھی اپنے والد کے واسطے سے اشعث سے "عن ابیہ عن جدہ" کے الفاظ کے ساتھ اس کی تائید کی ہے؛ شارح فرماتے ہیں کہ پہلی سند (جس میں یحییٰ بن عباد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں) حقائق کے زیادہ مشابہ اور درست ہے۔