المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ وَتَخْصِيصِ يَوْمٍ أَوْ شَهْرٍ بِعَيْنِهِ باب: ہمیشہ روزہ رکھنے اور کسی دن یا مہینے کو خاص کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1050
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : ثَنَا بِشْرٌ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَتَغَدَّى ، فَدَعَانِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ : لَا تَصُومَنَّ يَوْمًا تَجْعَلُ صَوْمَهُ عَلَيْكَ حَتْمًا .ترجمہ
حصین بن ابی الحر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے، انہوں نے مجھے بھی کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دی تو میں نے عرض کیا کہ میں روزے سے ہوں، اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”تم کسی ایسے دن کا روزہ ہرگز نہ رکھا کرو جسے تم (مستقل بنیادوں پر) اپنے اوپر لازم اور حتمی قرار دے لو۔“