المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ وَتَخْصِيصِ يَوْمٍ أَوْ شَهْرٍ بِعَيْنِهِ باب: ہمیشہ روزہ رکھنے اور کسی دن یا مہینے کو خاص کرنے کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ رَجُلٍ يَتَحَرَّى يَوْمًا يَصُومُهُ ، فَقَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَكْرَهُ أَنْ يَتَحَرَّى شَهْرًا ، أَوْ يَوْمًا يَصُومُهُ ، وَيَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ : مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ .
1049 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوَقِّتَ يَوْمًا يَصُومُهُ .
1049 \ 3 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنَا هِشَامٌ نَحْوَهُ ، وَزَادَ : وَكَانَ يَكْرَهُ صَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ .عیسیٰ بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا جو (نفلی) روزے کے لیے کسی خاص دن کی تلاش اور تعیین کرتا ہے، تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کسی مخصوص مہینے یا دن کو روزے کے لیے خاص کر لینے کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے ہمیشہ (عمر بھر) کا روزہ رکھا، اس نے گویا روزہ ہی نہیں رکھا۔“
امام احمد بن منیع نے عکرمہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی ہے کہ وہ روزے کے لیے کوئی دن یا وقت متعین کرنے کو ناپسند کرتے تھے
نیز یزید کی ہشام سے مروی روایت میں انھی الفاظ کے ساتھ یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنے کو بھی (تعین و التزام کے خوف سے) ناپسند فرماتے تھے۔