المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 104
وَقَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَخَالِدٌ قَالَا : أَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ نَضْلَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ الْبَسَاتِينِ ، فَأَخَذَتْنِي حَاجَةٌ ، فَانْطَلَقْتُ لِحَاجَتِي ، فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ عَلَى جَدْوَلٍ ، فَأَتَى عَلَيَّ أَبُو مُوسَى وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَخْلَعَ خُفَّيَّ ، فَقَالَ : " أَقِرَّهُمَا ، وَامْسَحْ حَتَّى تَضَعَهُمَا حِينَ تَنَامُ " .ترجمہ
سیدنا عیاض بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی رفاقت میں کسی باغ کی سیر کو نکلے، وہاں مجھے قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے (علیحدہ) چلا گیا، پھر میں واپس پلٹا اور ایک نہر کے کنارے بیٹھ گیا، اتنے میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لے آئے جب کہ میں اپنے موزے اتارنے ہی والا تھا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”انہیں (پاؤں میں ہی) برقرار رکھو اور ان پر مسح کرو یہاں تک کہ جب تم سونے لگو تو انہیں اتارنا۔“
[تخریج: مصنف ابن ابی شیبہ: 189، اس کی سند صحیح ہے]