المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْفِطْرِ فِي السَّفَرِ وَصِحَّةِ صَوْمِ مَنْ صَامَ فِيهِ باب: سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت اور روزہ رکھنے کی صحت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ صَاحِبٍ لِي مِنَ الْعُمُرَةِ ، فَوَافَيْنَا الْهِلَالَ هِلَالَ رَمَضَانَ ، فَنَزَلْنَا فِي أَرْضِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَأَصْبَحْنَا مُفْطِرِينَ إِلَّا رَجُلًا مِنَّا وَاحِدًا ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نِصْفَ النَّهَارِ فَوَجَدَ صَاحِبَنَا يَلْتَمِسُ بَرْدَ النَّخْلِ ، فَقَالَ : مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ ؟ قَالُوا : صَائِمٌ ، قَالَ : مَا حَمَلَهُ عَلَى أَنْ لَا يُفْطِرَ ؟ قَدْ رَخَّصَ اللهُ لَهُ ، لَوْ مَاتَ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ .
مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .مہری کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابوسعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں اپنے ایک رفیق کے ہمراہ عمرہ کر کے واپس آ رہا تھا کہ ہمیں رمضان کا چاند نظر آگیا، پھر ہم نے ایک انتہائی گرم دن میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زمین پر پڑاؤ ڈالا، اس روز ہم میں سے ایک شخص کے سوا سب نے (سفر کی وجہ سے) روزہ نہیں رکھا تھا، دوپہر کے وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو انہوں نے دیکھا کہ ہمارا وہ ساتھی (گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے) کھجور کے درختوں کی ٹھنڈک تلاش کر رہا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”تمہارے اس ساتھی کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ روزے سے ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے روزہ نہ کھولنے پر کس بات نے مجبور کیا؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے (سفر میں افطار کی) رخصت دی ہے، اگر یہ (اس حالت میں) فوت ہو جاتا تو میں اس کی نمازِ جنازہ تک نہ پڑھتا۔“
یہ روایت موقوف صحیح ہے۔