المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ جَامَعَ أَوْ أَفْطَرَ عَامِدًا باب: جان بوجھ کر جماع یا روزہ توڑنے والے کے عمل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ زَنْجَلَةَ الرَّازِيُّ ، ثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي أَفْطَرْتُ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ . قَالَ : مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ ، وَلَا سَفَرٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : بِئْسَ مَا صَنَعْتَ . قَالَ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَةً . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا مَلَكْتُ رَقَبَةً قَطُّ ، قَالَ : فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ . قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أُشْبِعُ أَهْلِي ، قَالَ : فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : تَصَدَّقْ بِهَذَا عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا . قَالَ : إِلَى مَنْ أَدْفَعُهُ ؟ قَالَ : إِلَى أَفْقَرِ مَنْ تَعْلَمُ . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجَ مِنَّا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى عِيَالِكَ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے رمضان کا ایک روزہ (قصداً) توڑ دیا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا کسی عذر یا سفر کے بغیر ایسا کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بہت برا کیا“، اس شخص نے پوچھا: اب آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو“، اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں کبھی کسی غلام کا مالک نہیں رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو“، اس نے عرض کیا: میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ“، اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں تو اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کی بھی سکت نہیں رکھتا، اسی دوران نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ایک ٹوکرہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ (لے جاؤ اور) ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دو“، اس نے عرض کیا: میں یہ کسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے تم سب سے زیادہ محتاج جانتے ہو اسے دے دو“، اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! مدینہ کے ان دو سنگلاخ میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ حاجت مند نہیں ہے، تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر اسے اپنے ہی اہل و عیال پر صدقہ کر دو۔“